Top News

sponsor

Recent Posts






ڈیلی نیوز 

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان ‘آفیشل ورکنگ وزٹ’ پر امریکا کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے، تاہم یہ دورہ امریکا کے لیے پہلے نہیں بلکہ تیسرے درجے کا دورہ تصور کیا جاتا ہے۔امریکا جس دورے کو اول درجہ دیتا ہے وہ ‘اسٹیٹ وزٹ’ ہے جس کی دعوت صرف صدور یا بادشاہوں کو دی جاتی ہے اس میں حکومت کا سربراہ یا وزیراعظم شامل نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ ایک امریکی صدر کے 4 سالہ دور اقتدار میں کبھی کبھار ہی اسٹیٹ وزٹ کیے جاتے ہیں۔


امریکا کا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ غیر ملکی سربراہان کا ریکارڈ مرتب کرتا ہے اور ان دوروں کو 5 درجات میں تقسیم کرتا ہے جن میں پہلا ‘اسٹیٹ وزٹ’، دوسرا ‘آفیشل وزٹ’، تیسرا ‘آفیشل ورکنگ وزٹ’، چوتھا ‘ورکنگ وزٹ’ اور پانچواں ‘پرائیویٹ وزٹ شامل ہے’۔اسٹیٹ وزٹ کی دعوت ریاست کے سربراہان یا بادشاہوں کو امریکی صدر کی جانب سے دی جاتی ہے اور اس دورے کے دوران غیر ملکی سربراہان وائٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر قائم ‘بلیئر ہاؤس’ میں 4 دن اور تین راتوں تک قیام کرتے ہیں۔اس دورے کے دوران غیر ملکی سربراہان وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے عشائیے میں شرکت کرتے ہیں جبکہ ان کی آمد اور روانگی اعزازی تقریبات کے ساتھ ہوتی ہے اور انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی پیش کی جاتی ہے۔اس موقع پر تحائف کا بھی تبادلہ ہوتا ہے جبکہ سربراہان کی اہلیہ (خاتون اول) بھی ان عشائیوں اور تقریبات میں شرکت کر سکتی ہیں جبکہ اس دوران صحافیوں کو بھی جانے کی اجازت ہوتی ہے اور تصاویر بنوانے کے بھرپور مواقع بھی میسر آتے ہیں۔آفیشل وزٹ دوسرے درجے کا دورہ ہے جو ریاست کے سربراہ کے لیے ہوتا ہے اور وہ بھی امریکی صدر کی دعوت پر واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں۔آفیشل وزٹ کے تمام محرکات اسٹیٹ وزٹ کی طرح ہی ہیں، تاہم اس میں مہمان سربراہ کو 21 کے بجائے 19 توپوں کی سلامی پیش کی جاتی ہے۔آفیشل ورکنگ وزٹ تیسرے درجے کا دورہ ہے جس کی دعوت امریکی صدر کی جانب سے ریاست کے سربراہ یا حکومت کے سربراہ کو دعوت دی جاتی ہے۔دورے کے دوران حکومت کے سربراہ دستیابی کی صورت میں بلیئر ہاؤس میں 3 دن اور 2 راتوں تک قیام کرتے ہیں، تاہم امریکی انتظامیہ آفیشل ورکنگ وزٹ پر آنے والے غیر ملکی سربراہ کے لیے بلیئر ہاؤس خالی کروانے کی پابند نہیں ہے۔اس درجے کے دورے میں غیر ملکی سربراہ امریکی صدر سے ملاقات کرتے ہیں جبکہ اس میں انہیں دیا جانے والا عشائیہ لازمی نہیں ہے۔امریکی صدر کے ملاقات کے بعد غیر ملکی سربراہ کو ظہرانہ دیا جاتا ہے جس میں امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ شرکت کرتے ہیں۔اس درجے میں غیر ملکی سربراہ کو وائٹ ہاؤس آمد اور یہاں سے روانگی پر اعزازی تقریبات نہیں دی جاتیں اور نہ ہی توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔اسی طرح اس درجے میں صحافیوں کو چند تصاویر لینے کی اجازت ہوتی ہے اور کبھی کبھار مشترکہ پریس کانفرنس بھی ہوتی ہے جبکہ سربراہان کی اہلیہ ظہرانے میں شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہی تحائف کےتبادلے ہوتے ہیں۔ورکنگ وزٹ چوتھے درجے کا دورہ ہے، اس کی بھی دعوت امریکی صدر کی جانب سے دی جاتی ہے، تاہم اس میں صرف غیر ملکی سربراہ امریکا کے صدر سے ملاقات کرتا ہے لیکن اس میں نہ اعزازی تقریبات ہوتی ہیں، نہ ظہرانہ، نہ عشائیہ اور نہ ہی صحافیوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس دوران تحائف کا بھی تبادلہ نہیں کیا جاتا۔پرائیویٹ وزٹ آخری درجے کا دورہ ہے جس ریاست کا سربراہ، حکومت کا سربراہ، وزیر خارجہ یا پھر کوئی بھی سرکاری حکام امریکی دعوت کے بغیر امریکا کا دورہ کرتا ہے۔اس دوران مہمان امریکی صدر سے ملاقات کی درخواست کرسکتا ہے، تاہم اگر درخواست منظور ہوجائے تو امریکی صدر کے ساتھ ملاقات ‘ورکنگ سیشن’ کہلائے گی۔اس میں بلیئر ہاؤس میں قیام کی پیشکش نہیں کی جاتی جبکہ نہ اعزازی تقریبات ہوتی ہیں، نہ ظہرانہ، نہ عشائیہ اور نہ ہی صحافیوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس دوران تحائف کا بھی تبادلہ نہیں کیا جاتا۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ریکارڈ بک کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایوب خان اور جنرل ضیا الحق ایسے صدور ہیں جنہوں نے امریکا کا درجہ اول ‘اسٹیٹ وزٹ’ کیا۔ایوب خان کو 2 مرتبہ اسٹیٹ وزٹ کا اعزاز حاصل ہے جس میں انہوں نے پہلی مرتبہ 11 سے 14 جولائی 1961 اور دوسری مرتبہ 14 سے 16 دسمبر 1965 کو ایوب خان نے امریکا کا اسٹیٹ وزٹ کیا۔اس کے علاوہ ایک اور فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے 6 سو 9 دسمبر 1982 کو امریکا کا اسٹیٹ وزٹ کیا تھا۔ریاست پاکستان کے سربراہان میں سب سے زیادہ مرتبہ امریکی صدرو سے ملاقات کا اعزاز سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے پاس ہے جو 11 مرتبہ امریکی صدور سے ملاقات کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے کبھی اسٹیٹ یا آفیشل وزٹ نہیں کیا۔اسی طرح حکومت کے سربراہان میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو امریکی صدور کی جانب سے آفیشل وزٹ کی دعوت دی گئی۔ذوالفقار علی بھٹو نے 18 سے 20 ستمبر 1973 اور 4 سے 5 فروری 1975 کو آفیشل وزٹ کیا جبکہ بینظیر بھٹو نے 5 سے جون 1989 کو امریکا کا آفیشل وزٹ کیا جبکہ انہوں نے 9 سے 11 اپریل 1995 کو آفیشل ورکنگ وزٹ بھی کیا۔سویلین حکمرانوں میں سب سے زیادہ مرتبہ امریکی صدور سے ملاقات کرنے کا اعزاز نواز شریف کے پاس ہے جنہوں نے 6 مرتبہ امریکی صدور سے مختلف ادوار حکومت کے دوران ملاقات کی۔نواز شریف بطور سربراہ حکومت 3 مرتبہ آفیشل ورکنگ وزٹ جبکہ ایک مرتبہ ورکنگ وزٹ پر امریکا کا دور کر چکے ہیں تاہم انہوں نے کبھی بھی آفیشل وزٹ نہیں کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک مرتبہ امریکا کا پرائیویٹ وزٹ کیا، یہ دورہ 4 سے 5 جولائی 1999 کو کیا گیا اور اس دوران انہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن سے کارگل تنازع پر گفتگو کی تھی۔کسی بھی پاکستانی حکمران کی جانب سے آخری مرتبہ امریکا کا دورہ 2015 میں کیا گیا تھا کہ اور یہ دورہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کیا تھا۔

موبائل پیکجز

Insurance Policy


ڈیلی نیوز

سلام آباد(نیوز ذرائع )ہائی کورٹ نے وازرت قانون کو خط لکھ کر احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کی سفارش کر دی ہے۔جبکہ اس سے پہلے جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ کر ویڈیو الزامات مسترد کر دیئے۔
جج ارشد ملک نے بیان حلفی بھی ہائیکورٹ میں جمع کرایا۔ جج ارشد ملک نے جاری پریس ریلیز بھی خط کے ساتھ ارسال کی۔ ان کی جانب دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں۔ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں کہا بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے، ویڈیو کو ایڈٹ کر کے چلایا گیا۔
سلام آباد(نیوز ذرائع  )ہائی کورٹ نے وازرت قانون کو خط لکھ کر احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کی سفارش کر دی ہے۔جبکہ اس سے پہلے جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ کر ویڈیو الزامات مسترد کر دیئے۔
جج ارشد ملک نے بیان حلفی بھی ہائیکورٹ میں جمع کرایا۔ جج ارشد ملک نے جاری پریس ریلیز بھی خط کے ساتھ ارسال کی۔ ان کی جانب دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں۔ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں کہا بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے، ویڈیو کو ایڈٹ کر کے چلایا گیا۔

ڈیلی نیوز

نیوز(25 مئی 2019)۔

لاہور (نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما زکریا بٹ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ زکریا بٹ نے گذشتہ روز مقامی ہوٹل میں ایک افطار تقریب میں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف ۔ میں شمولیت کا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا۔
زکریا بٹ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ خیال رہے اس سے قبل بھی ن لیگ میں فارورڈ بلاک بننے کی خبریں گرشد کرتی رہی ہیں۔ نواز شریف کے دوبارہ جیل جانے کےاور شہباز شریف کے بیرون مملک قیام بڑھا لینے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) میں بھونچال سا آگیا تھا اور جنوبی پنجاب سمیت دیگر حلقوں سے درجنوں ایم این ایز اور ایم پی ایز نے الگ دھڑا بنانے کے لئے ملاقاتیں بھی شروع کردی تھیں اور ادھر مرکزی قیادت نے شہبازشریف کی غیر موجودگی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ رانا تنویر کو دینے کا حتمی فیصلہ کیا اور دوسری جانب پارٹی کو تقسیم کرتے ہوئے مریم نواز ، احسن اقبال و دیگر میں عہدوں کی بھی بندر بانٹ کردی گئی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہبازشریف راتوں رات پارٹی کا شیرازہ بکھرنے پر کافی پریشان ہوئے تھے۔۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے کئی ارکان پارٹی کی حالیہ تبدیلیوں کے بعد حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔اکثر لیگیوں کا خیال تھا شہباز شریف اہم حلقوں سے معاملات طے کر لیں گے،اس حوالے سے شہباز شریف کو یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی کہ وہ معاملات کو سنبھال لیں گے۔ مگر شہباز شرہف کی بیرون ملک روانگی اور مسلم لیگ ن میں نواز شریف کے ساتھیوں کی پارٹی کے اہم عہدوں پر نامزدگی سے کئی ارکان مایوس ہو گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کے 10 سے 12 ایم پی ایز تحریک انصاف سے مسلسل رابطوں میں ہیں ان میں سے پانچ ارکان وہ بھی ہیں جنہوں نے اسپیکر الیکشن میں پارٹی امیدوار کی بجائےچوہدری پرویز الہیٰ کو ووٹ دیا تھا۔ یہ ارکان گرین سگنل ملنے پر فارورڈ بلاک یا اپنی پارٹی سے الگ ہو سکتے ہیں۔
ضرور پڑھیں



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو انتخابات واضح جیت پر مبارکباد پیش کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نریندر مودی اور ان کے اتحادیوں کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔۔بھارتی وزیراعظم کے ساتھ خطے میں امن اور ترقی کے لیے کام کرنے کی خواہش ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی کے وزیراعظم نتین یاہو نے بھارتی وزیراعظم نریندور مودی کو الیکشن میں واضح فتح حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی ۔نتین یاہو نے اس موقع پر اسرائیل اور بھارت کو دوست قرار دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے نتین یاہو کا کہنا تھا کہ انتخابات میں شاندار فتح پر مبارک ہو میرے دوست نریندر مودی!۔ یہ انتخابی نتائج دنیا کی سب سے بڑی جمہوری طاقت کی قیادت کی تصدیق کرتے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کا بھی عزم ظاہر کیا۔اور کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان عظیم دوستی کو مضبوط بنانے کے لئے تعاون جاری رکھیں گے. خیال رہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتخابات میں جیت کا کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ بھارت میں ہونے والے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی واضح برتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پہلے جبکہ کانگریس دوسرے نمبر پر ہے۔ انتخابات کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج میں اپنی برتری دیکھتے ہوئے نریندر مودی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم سب ساتھ مل کر ایک مضبوط بھارت بنائیں گے، ہم ساتھ مل کر ترقی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک مرتبہ پھر سے جیت گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان 2ہفتے قبل اپنا استعفیٰ پیش کرچکے،کپتان کی جگہ وزارت عظمیٰ کسے دی جائے گی، دھماکہ خیز خبرنے ہلچل مچادی




ڈیلی نیوز(10 مئی2019)۔

معروف صحافی ضیاءالدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت نہیں گرانا چاہتی وہ چاہتے ہیں کہ یہ حکومت پانچ سال پورے کرے۔لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ شاہ محمود وزیراعظم ہوں گے اور انہیں عمران خان کے متبادل کے طور پر لایا جائے گا۔اور ایسا اگلے دو تین ماہ میں ہو جائے گا۔کیونکہ انہوں نے ملک کا جو حال کر دیا ہے اس میں شاہ محمود قریشی ہی وہ شخص ہیں


جنہیں کام کرنے کا تجربہ ہے۔انہوں فنانس سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا ہوا ہے۔جس ہر تبصرہ کرتے ہوئے 


محمد مالک کا کہنا تھا کہ عمران ایسا بندہ ہے اگر اس کو اب کوئی ہٹائے گا تو وہ سب کو لے کے جائے گا وہ نہیں جانے والا بندہ اور نہ وہ جائے گا،عمران خان کسی کے کہنے پر گھر نہیں جائے گا،پی ٹی آئی عمران خان کے بغیر نہیں چل سکتا۔جس پر ضیاءالدین نے کہا کہ عمران خان دو ہفتے قبل اپنا استعفیٰ بھی پیش کر چکے تھے۔اس سے قبل عروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کی وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے لیے بہت خدمات ہیں۔جہانگیر تریننے پارٹی پر اور عمران خان پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا جب کہ پنجاب کی حکومت بنانے میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔تاہم جہانگیر ترین جن آزاد اراکین کو پارٹی میں لائے ان سے کیے ہوئے وعدے بھی تو پورے کرنے تھے۔ اس لیے جہانگیر ترین کا نام پھر سے منظر عام پر آنے لگا،پی ٹی آئی میں جب سے تبدیلی کی لہر چلی ہے تب سے عمران خان صاحب نے انہیں پی ٹی آئی میں پھر سے ایکٹو کر دیا۔دوسری طرف جہناگیر ترین کا اینٹی گروپ شاہ محمود قریشی بھی تو ساری زندگی وزیر خارجہ رہنے کے لیے نہیں ہیں وہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے سپنے دیکھ رہے ہیں۔ خواہش تو ان کی پرائم منسٹر بننے کی ہے لیکن ایسا تو ممکن ہو نہیں سکتا۔ لیکن چیف منسٹر پنجاب بھی کوئی چھوٹی چیز نہیں ہوتی۔پنجاب آدھا پاکستان بنتا ہے۔اس لیے اب جب بات آئے گی شاہ محمود قریشی کی کہ انہیں پنجاب میں کوئی پوزیشن ملے گی یا نہیں تو شاہ محمود قریشی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انہیں ہرایا گیا۔ان کے مقابلے پر ایک امیدوار کو لایا گیا جسے جہانگیر ترین نے سپورٹ کیا۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کو گندی گالیاں دے دالی ۔میڈیا میں یہ گالیاں بیپ(آواز بند)کر کے چلائی گئی۔




ڈیلی نیوز (جنوری 2019)۔

پاکستان کی سیاست میں گالیاں دینا عام بات ہو گئی ہے۔ہر روز کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا کوئی رہنما اپنے مخالفین کو گالیاں یا بُرے القاب سے مخاطب کرتا نظر آتا ہے۔لیکن آج مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ نے شیخ رشید کے لئے لائیو پریس کانفرنس میں جس قسم کی گندی زبان استعمال کی ہے آج سے پہلے شاید ہی اسکی مثال ملتی ہو۔

تفصیلات کے مطابق رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے خوب حکومت پے تنقید کے تیر چلائے ۔رانا ثناء کا کہنا تھا کہ حکومت بلکل ناکام ہو گئی ہے۔حکومت کے پاس نہ تو کوئی پلان ہے نہ ہی یہ عوام کی بہتری کے لیئے کچھ کر سکتے ہیں۔

عمران خان سے سبھی تنگ ہیں۔اس سے کچھ نہیں ہو پارہا۔پاکستان کی معاشی صورتحال بہت خراب ہے ۔حکومت کو چاہیے کے وہ معاشی بہتری کے لیے کچھ کرے لیکن حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی۔حکومت کی اس وقت کوئی پرفارمنس نہیں ہے ۔انکے پاس کوئی پلان نہیں ہے کہ بتائیں کے کس طرح عوام کی مشکلات کم ہوگئی ، کس طرح بےروزگاری ختم ہوگی ، کس طرح مہنگائی یے جان چھوٹ گی۔

اس وقت تاجر برادری چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقتیں کر رہی ہے انکو اپنی مشکلات بتا رہی ہے ۔کیونکہ تاجر برادری بھی سمجھ چکی ہے کہ حکومت سے کچھ نہیں ہوگا یہ صرف خالی باتیں ہی کرسکتے ہیں۔


شیخ رشید پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء نے کہا کے دنیا  کا گٹھیا ترین انسان اور راولپنڈی کا بےغیرت شیطان کہتا ہے کہ میں شہباز شریف صاحب کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیئرمین نہیں مانتا۔یہ بے غیرت انسان دن میں کہیں نہ کہیں سے نمودار ہوتا ہے اور یہی بکواس کرتا ہے۔

اپوزیشن نے میاں شہباز شریف پر  اعتماد کا اظہار کیا اور تمام اپوزیشن نے مل کر انکو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر منتخب کیا۔حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔

اگر اس راولپنڈی کے بے غیرت شیطان میں کوئی غیرت ہے تو یہ خود اپنا کردار دیکھے ۔اس کے پاس 1985 میں ایک روپے بھی نہیں تھا ۔اب اس کی اربوں کی جائیدادیں ہیں۔یہ سب جوے کی کمائی ہے ۔اس نے کشمیر مہاجر ٹرینگ کیمپ لگایا وہاں یہ جواہ کرواتا رہا۔یہ سب جائیداد اسی جوئے کی کمائی سے بنائی گئی ہے۔


ضرورپڑھیں:۔

  


اپنی دفن ہوجانے والی سیاست کونمل یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسے اداروں کو بدنام کر کے زندہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم اورنگزیب پر برس پڑے۔


urdu news



ڈیلی نیوز(جنوری 2019)۔



تفصیلات کے مطابق  نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم اورنگزیب کو جواب دیا کہ آپکی سیاست بس اب جھوٹی کہانیوں تک رہ گئی ہے۔

آپکی لیڈرشپ سلاخوں کے پیچھے ہے ۔زندگی میں آپ لوگوں نے ایک ٹکے کا کام نہیں کیا ۔آپ کے بڑے این آر آؤ کے لیے منتیں کر رہے ہیں۔



علیمہ خان کبھی پاکستان کی وزیراعظم نہیں رہی ۔انکے تمام اثاثے ڈکلیر ہیں ۔جب انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ ہی نہیں رکھا تو کرپشن کیسے کرلی۔



:ضرورپڑھیں







حکومت نے ادویات بنانے والے کمپنیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔روزمرہ استمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں 15%  اضافہ۔پاکستان کی غریب عوام مہنگائی کا بڑا ٹیکالگا دیا گیا

urdu news


ڈیلی نیوز (جنوری 2019 

دواساز کمپنیوں کی طرف سے دی گئی دھمکی کام کر گئی حکومت نے روزمرہ استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں 15% اضافہ کردیا ۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

یاد رہے کے ادویات ساز کمپنیوں نے حکومت کو دھمکی دی تھی کہ اگر ادویات کی قیمتیں نہ بڑھائی گئی تو ادویات بنانا بند کر دیں گے 

جن ادویات کی قیمتوں میں اضافے ہوا ان میں 

گھانسی
بخار
گلے کی دوائیاں
پین کلر
اینٹی بائیوٹک

اور مختلف روزمرہ استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔
اضافے سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی۔عوام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ہم ویسے ہی اچھے تھے۔


حکومت کی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کرنے کی انوکھی منطق سامنے
محکمہ ریپ کا کہنا ہے کہ ادویات میں اضافہ مریضوں کے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ہے۔

ڈولر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ادویات کے خام تیل اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جسکی وجہ سے مجبوراً ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافہ بھی مہنگائی کی وجہ بنا ہے۔

:ضرور پڑھیں



شہباز کے بعد حمزہ شہباز بھی جیل میں ۔بڑی خبر آ گئ


مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما راناثناء پیپلزپارٹی کے نئے وکیل بن گئے ۔جیل کے باہر پریس کانفرنس میں پیپلزپارٹی کی وکالت کرنے لگے ۔جے آئی ٹی رپورٹ کہا اور کیسے بنی 
سببتا دیا رانا ثناء صاحب نے


urdu news



ڈیلی نیوز (10 جنوری 2018ء)۔

ن لیگ کے رہنما پیپلز پارٹی کے وکیل بن گئے ۔آصف علی زرداری کے خلاف بنی جے آئی ٹی بنی گالا میں میٹنگز کرتی تھی ۔رانا ثناء کے اہم انکشافات ۔

تفیصیلات کے مطابق مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما رانا ثناء لاہور میں قید مسلم لیگ کے رہنما میاں نوازشریف سے ملاقات کرنے آئے ۔جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کے پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کے  خلاف بنی جے آئی ٹی کی بنی گالہ میں عمران خان کی رہائشگاہ پر میٹنگز ہوتی تھی۔


وزرا کی ایک کمیٹی تھی جس کو یہ جے آئی ٹی بریفنگ دیتی تھی۔کمیٹی میں موجود وزرا نے رپوٹ کی منظوری دی ۔وزرا کی منظوری کے بعد حتمی منظوری خود عمران خان نے دی ۔وزیراعظم کی منظوری کے بعد وہ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ۔

وزیراعظم کے احتساب و رحمان جو ہیں وہ روز ٹی وی پے بیٹھ کے جے آئی ٹی کی صفائیاں دیتے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ جو اس حکومت کو لے کے آئے ہیں وہ خود ہی انکو نکالیں اور اپنی غلطی کی قوم سے معافی مانگیں۔
تحریک انصاف صرف انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے ۔پاکستان کی غریب عوام کا انکو کوئی احساس نہیں ہے۔


:ضرورپڑھیں



جوان بچا مار دیا۔ہم جانتے ہیں کہ راؤ انوار کو کیسے پکڑوایا۔
وہ کتنے دن مفروررہا ہے؟؟


urdu news


ڈیلی نیوز ( 10 جنوری 2019ء)۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار راؤانوار پر برہم ہو گئے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کا جوان بچا مار دیا اب باہر جانا چاہتے ہیں۔ہم جانتے ہیں ہم نے راؤانوارکو کیسے پکڑوایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راؤانوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ۔راؤانوار کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کے راؤانوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا عدالت حکم دے کیوں کے راؤانوار اپنی فیملی سے ملنے کے لئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں


جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار وکیل صفائی پر برہم ہو گئے ۔چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دئیےکہ جوان بچا مار دیا اب باہر جانا چاہتے ہیں ۔
وکیل صفائی نے بتایا کے انکی فیملی باہر ہے اس لیئے ۔جس پر چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ جو پیسا ملک میں کمایا وہ باہر منتقل کرنا چاہتے ہونگے۔ہم نے راؤ انوار کو کیسے پکڑوایا کیا آپ جانتے ہیں ۔کیا آپکو پتا ہے وہ کتنے دن مفرور رہا؟؟  راؤانوار باہر کیسے آیا؟؟

جس پر چیف جسٹس صاحب کو بتایا گیا کے وہ ضمانت پے رہا ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا اگر وہ ضمانت پر ہیں تو ٹھیک ہے ۔اگر راؤانوار ملک سے باہر جانے کی بات کرتا ہے تو اسکا پاسپورٹ ضبط کرلیا جائے۔

راؤانوار کو سہولیات فراہم کرنے پر بھی چیف جسٹس برہم ہو گئے چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دیئے راؤانوار ریاست کے لیئے اتنا اہم کیوں ہے۔انکو دی جانےوالی سہولیات کا پہلے کیوں نہیں بتایا۔جوان بچا مار دیا کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اگر فیملی کو ملنا ہے تو فیملی پاکستان آ کے مل لے۔ 


:ضرورپڑھیں





رابطہ فارم

Name

Email *

Message *